|
پاکستانی
حکمرانوں کی منطقی قلا بازیاں
کے اشرف
یوں تو دنیا بھرکے حکمران
رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے گمراہ کن بیانات دینے کے عادی ہوتے ہیں
لیکن اس فن میں بھی پاکستانی حکمرانوں نے دنیا بھر کے حکمرانوں کو پیچھے چھوڑ
دیا ہے۔ چناچہ پاکستانی عوام میں اس بات پر اتفاق ہے کہ پاکستان کے حکمران نہ
صرف مجرمانہ سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں' مالی کرپشن کرتے ہیں بلکہ انہائی حد
تک جھوٹے اور سفاک ہیں۔ وہ اس بات میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ وہ اپنے
ساتھیوں کی کرپشن کا دفاع کریں یا ان کے جرائم میں خود بھی شامل ہوجایں۔
اس کی تازہ تریں مثال
وزیراعظم پاکستان کا وہ بیان ہے جو انہوں نے صدر زرداری کے حوالے سے دیا ہے کہ
وہ اپنی پارٹی کے شریک چیرمین کا آبدوزوں کی خریداری میں کی جانے والی بد
عنوانیوں کے کیس میں ہر شکل میں د فاع کریں گے۔ یہ بات انہوں نے ملتان میں مقامی
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوے فرمائی۔
کیا کوئی ذمہ دار انسان
جو وزیر اعظم جیسے عہدے پر فائض ہو اس طرح کی گفتگو کر سکتا ہے یا ایسا بیان دے
سکتا ہے؟
اگر زرداری صاحب نے
آبدوزوں کی خریداری میں اس وقت کی وزیراعظم کا شوہر ہونے کی حثیت سے کمشن لی
تھی تو پارٹی کے موجودہ وزیراعظم کو ان کا دفاع کرنے کی بجاے مشورہ دینا چاہیے
کہ وہ صدر پاکستان یا پیپلز پارٹی کا شریک چیرمین ہونے کی حثیت سے قوم کے سامنے
اپنی پوزیشن واضع کریں اور اگر واقع ہی ان سے یہ غلطی ہوئی تھی تو اس کا اعتراف
کرکے قوم سے معافی مانگیں کمشن کے پیسے پاکستانی خزانے میں جمع کروایں اور
صدارت سے استعفی پیش کریں۔
لیکن پاکستان میں پہلے اس
طرح کی مثالیں کس نے قائم کی ہیں جو اب ہم یوسف رضا گیلانی یا زرداری صاحب سے
اس طرح کی توقع رکھیں؟
یہ تو پاکستانی لیڈرشپ کی
ذہنی بینکرپسی اور پسماندگی کی ایک مثال ہے ان کے اصل گھن آمیز چہرے اس وقت
سامنے آتے ہیں جب یہ ٹی وی پر بیٹھ کر گمراہ کن بیانات جاری کرتے ہیں۔ ان کی
آنکھیں اور چہرے کے تاثرات واضع طور پر اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ کتنی
ڈھٹائی کے ساتھ ایک غلط موقف کی حمایت کررہے ہیں اور کس دیدہ دلیری کے ساتھ
جھوٹ بھول رہے ہیں۔
تب تو فوزیہ وہاب جیسی
خوش شکل خاتون کو بھی خیال نہی رہتا کہ جب وہ پیپلز پارٹی کے غلط موقف کی حمایت
کرتی ہیں یا پیپلز پارٹی کے ایما پر جھوٹ بولتی ہیں تو ان کا بظاہر خوبصورت
چہرہ بھی کتنا بھیانک ہو جاتا ہے۔
پاکستانی سیاسی لیڈرشپ کی
ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ یہ غیرملکی حکمرانوں کو جھوٹ بولنے کی نہ صرف ترغیب
دیتے ہیں بلکہ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ پاکستانی عوام کے ساتھ بولے جانے
والے جھوٹوں کی پردہ داری کریں۔
اس کی حال میں ایک مثال
تو سی مور ہرش صاحب نے اپنی نیویارکرمیں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ میں سابقہ
صدر جنرل مشرف کے حوالے سے پیش کی ہے جس میں رسواے زمانہ ڈکٹیٹر نے امریکیوں سے
درخواست کی کہ وہ پاکستان کوڈرون دے دیں تا کہ پاکستان خود اپنے علاقوں میں
حملے کرے اور اگر وہ پاکستان کو ڈرون نہیں دینا چاہتے تو کم از کم ان پر
پاکستان ایر فورس کے نشانات بنا لیں تا کہ پاکستانی عوام، میڈیے اور دنیا کو ان
حملوں کے بارے میں دھوکہ دیا جا سکے۔
اس ضمن میں سب سے مزے
دار بات یہ ہے کہ پاکستان کے اقتدار پر شب خون کے نتیجے میں برسر اقتدار آنے
والا مشرف تو چلا گیا ہے لیکن پاکستان کے بظاہر منتحب حکمراں بھی امریکہ سے
یہی درخواست کرتے ہیں کہ انہیں ڈرون دیے جایں یا امریکی ڈرونوں پر پاکستان ایر
فورس کے نشانات لگا دیے جایں۔
یہ نہیں کہ پاکستان کے یہ
بد فطرت حکمران محض پاکستان کے عوام اور باقی دنیا کو اپنے بیانات سے گمراہ
کرتے ہیں یہ مسلسل اپنے گرد بھی جھوٹ کے محلات کھڑے کرتے رہتے ہیں جن کی حثیت
ریت کے گھروندوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔
مثال کے طور پر پاکستان
کے وزیراعظم صاحب نے کل ہی اپنے ایک نادر بیان میں فرمایا ہے کہ پاکستان کے
خزانے میں چودہ ارب اور پچاس کروڑ غیر ملکی کرنسی کے زخایر جمع ہوگئے ہیں۔
ان وزیراعظم صاحب کو کون
سمجھاے کہ جناب من اگر آپ قرض لے کرپاکستان کے خزانے ميں چودہ ارب تو کیا ہزار
ارب بھی اکھٹے کرلیں تو اس سے پاکستان کی مالی زمہ داریوں میں صرف اضافہ ہو گا
پاکستان کی حقیقی میعشت میں کوئی بہتری واقع نہیں ہو گی۔
اصل بات یہ ہے کہ انسانی
تاریخ بے شرمی اور ذلالت کی مثالوں سے بھری پڑی ہے لیکن پاکستان کے غیر منتخب
اور بظاہر منتخب حکمران جس طرح کی مثالیں قائم کررہے ہیں انسانی تاریخ یقیننا
ان کے جواب سے عاری ہے۔ اور طویل عرصے تک شاید اس طرح کی مثالیں پیش کرنے سے
عاری رہے۔
|