|
جمہوریت کشی
میں
سیاست
دانوں کا شرم ناک کردار
وضاحت: یہ نقطہ نظر صرف ان سیاست دانوں کے بارے میں ہے جنہوں نے جمہوریت کشی کے
بارے میں کسی نہ کسی طریقے سے کسی نہ کسی وقت میں شرم ناک کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان میں کئی ایسے سیاست دان ہیں جنہوں نے ہمیشہ اصولی سیاست کی اور وقت آنے
پر جمہوریت کے لیے بے بہا قربانیاں دیں۔
ابھی تک پاکستانیوں کی اکثریت کا یہ خیال رہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی تبا
ہی و بربادی میں محض فوج اور عدالتوں نے اہم کردارادا کیا ہے اور سیاست دانوں
کا اس ضمن میں محض مجبورمحض کردار رہا ہے۔
اصل صورت حال اس کے برعکس ہے۔
حال ہی میں موجودہ بر سر حکمران پارٹی نے جنرل مشرف کے بدنام زمانہ این آر
آرڈینینس کو پارلیمینٹ میں بجھوایا تو پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے اس کی جانچ
پڑتال کے بعد اس کوپارلیمینٹ کے فلور پر پیش کرنے کے لیے ووٹنگ کی۔
قائمہ کمیٹی کے تیرہ ارکان میں سے پانچ نے این آر او کے خلاف جبکہ سات ارکان نے
اس کی حمایت میں ووٹ دیا۔ ایم کیوایم کمال ہشیاری سے سین سے غایب رہی۔ اس طرح
اس نے این آر او کی مخالفت کی نہ حمایت۔
ووٹ کے وقت غایب ہو جانا یا موجود ہوتے ہوے مخالفت یا موافقت میں ووٹ نہ دینا
بلا وجہہ نہیں ہے۔
یہ
ایک تکنیک ہے جس کے ذریعے سیاسی پارٹیاں یا سیاست دان ملی بگھت کرکے کسی بل کی
خاموش حمایت کرتے ہیں۔
یہ
حرکت پہلی بار ایم کیوایم نے استعمال نہیں کی اس سے پہلے موجودہ حکمران پارٹی
نے اور متحدہ مجلس عمل نے جنرل مشرف کو کئی مواقع پر ایے ہی خاموش امداد فراہم
کی تھی۔
جنرل مشرف کے دوسرے الیکشن کے دوران بے نظیر بھٹو صاحبہ نے انتہائی شرمناک
طریقے سے الیکشن میں حصہ نہ لیکر جنرل مشرف کو منتخب ہونے میں مدد دی تھی۔ اسی
شرمناک طریقے سے نام نہاد علما کے گروپ ایم ایم اے نے سرحد اسمبلی کو مشرف کے
خلاف ووٹ نہ دیکر بالواسطہ طور پر اس کی الیکشں میں مدد کی تھی۔
اس
سے پہلے بھی اسمبلیوں میں بیٹھے منتخب نمائندے اسی طرح سابقہ جنرلوں کو امداد
فراہم کرتے رہے۔
اس
طرح دیکھا جاے تو سیاست دانوں نے ملک میں جمہوریت کشی میں فوجی طالع آزماوں
اور ان پٹھو ججوں سے زیادہ شرمنا کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ
ملک ٹوٹا، ملک میں طرح طرح کے مسایل پیدا ہوے بلکہ عوام کی مشکلات میں بھی
اضافہ ہوا اور پاکستان غیر ملکی طاقتوں کی آماج گاہ بھی بنا۔
پاکستانی سیاست دان اس وقت یہ شرمناک کردار ادا کرتے رہیں گے جب تک پاکستان کے
عوام اس قسم کے سیاست دانوں کی شناخت نہیں کرتے اور انہیں عملی اقدامات سے
سیاسی عمل سے باہر نہیں کر دیتے۔
|