|
پاکستان کے چور ڈاکو حکمران
اور کمزور جمہوریت
پاکستان کو اس حوالے سے دنیا
کا بد ترین ملک قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہاں دیانت دار قیادت کا شدت سے فقدان
پا یا جاتا ہے۔
پاکستان کے عوام نے کئی بار
تبدیلی کی لیے تحریکیں چلائی ہیں لیکن ہر تحریک جب منطقی نتیجے تک پہنچتی ہے تو
پہلے سے زیادہ بد دیانت دار حکمران بر سر اقتدار آ جا تا ہے۔
پاکستان کی موجودہ حکومت بھی
ایسی ہی ایک تحریک کے نتیجے میں گزشتہ سال برسر اقتدار آئی تھی۔
سب سے پہلے تو موجودہ برسر
اقتدار پارٹی نے ایک شخص کو عل الان صدر پاکستان منتخب کیا جس کے خلاف دنیا بھر
کے اخبارات میں کرپشن کی خبریں شایع ہوتی رہی ہیں۔
دوسرا موجودہ برسراقتدار پارٹی
نے موجودہ صدر کو انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ جمہوریت کے ساتھ نتھی کر دیا ہے۔ اس
نام نہاد سیاسی پارٹی کی ساری سیاست موجودہ صدر کی صدارت بچاے رکھنے کے نقطے کے
گرد کھوم رہی ہے۔
بدنام زمانہ ڈکٹیڑ جنرل مشرف
نے ایوان اقتدار سے رخصتی سے قبل ایک انتہائی غیر قانونی آرڈینینس جاری کیا جس
کی بنا پر پاکاستان کے سیاست دانوں کی بہت سی نہ صرف مالی بد عنوانیاں معاف
کردیں بلکہ بہت سے ایسے جرایم معاف کر دیے جن میں قتل ، چوری اور ڈاکے
جیسے جرايم شامل تھے۔
پاکستان کے عوام کی شاندار اور
جاندار تحریک کے نتیجے میں بحال ہونے والے ججوں نے جنرل مشرف کے اس رسواے زمانہ
آرڈینینس کے بال کو یہ کہہ کر پارلیمنٹ کے کورٹ میں پھینک دیا کہ اگر پارلیمنٹ
چاہے تو اس سیا ہ آرڈینینس کو قانونی تحفظ فراہم کرے۔
گزشتہ سال ڈیڑھ سال کے عرصہ
میں پاکستانی فوج اور پاکستان کی عدلیہ نے خاصی حد تک اپنے اپنے چہروں پر لگے
کا لے داغوں کو دھو لیا ہے۔
فوج نے بہت حد تک موجودہ
جمہوری سیٹ اپ کو اخلاقی امداد فراہم کرکے کسی حد تک لوگوں کی فوج کے بارے میں
شکایات دور کر دی ہیں۔
عدلیہ نے بھی بحالی کے بعد کئی
ایسے اقدامات کئے ہیں جن کی وجہ سے عدلیہ کے عوامی امیج میں کافی بہتری آتی جا
رہی ہے
لیکن سیاست دان بالعموم اور
موجودہ حکمران پارٹی سے وابستہ سیاست دان بالخصوص اس بات پر تلے بیٹھے ہیں کہہ
انہوں نے اپنے چہروں پر لگے بد عنوانیوں اور جرائم کے داغ کسی قیمت پر نہیں
دھلنے دینے۔
اس ضمن میں سب سے کھناونا
کردار حکمران پارٹی کے سیاست دان ادا کررہے ہیں جو اس بات پر تلے بیٹھے ہیں کہ
انہوں نے ہر صورت میں این آر او جیسا کالا قانوں پارلیمعنٹ سے ضرور پاس کروانا
ہے۔
اس حوالے سے آج پارلیمینٹ میں
کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے این آر او کی سات میں سے پانچ
شقوں کو منظور کرکے پارلیمینٹ میں پیش کر دیا ہے تا کہ پارلیمینٹ اس پربحث و
تمحیص کے بعد اسے قبول کرے یا ٹھکرا دے۔
سچ تو یہ ہے کہ موجودہ حکمران
پارٹی کے لیے یہ ایک اچھا موقع تھا کہ یہ این آر او جیسے رسواے زمانہ ایکٹ
کواپنی موت مرنے دیتی اور کچھ نیک نامی کماتی ۔ لیکن لگتا ہے کہ موجودہ حکمران
پارٹی کی قیادت اس بات پر تلی ہوئی ہہ کہ اس نے ہرحالت میں سیاسی خود کشی کرنی
ہے۔
ایں آر اوکو پارلیمانی عمل سے
گزار کر حکمران پارٹی نے تو خود کشی کرنا ہی ہے لیکن ہمارا خد شہ ہے ہے کہ بد
قسمتی سے موجودہ حکمران پارٹی کے اس عمل سے سیاست دانوں کے چہروں پر لگی سیاہی
مزید گہری ہو جاے گی اور عوام میں ان پر اعتماد کا گرتا ہوا گراف اور نیچے چلا
جائے گا جو پاکستان جیسے ملک کی کمزور جمہوریت کے لیے کوئی نیک شگون نہیں ہو
گا۔
|