|
|
|
خواب
کے اشرف
میں اب بھی
خواب دیکھ رہا ہوں
ایک پرامن دنیا کے
مسکراتے ہوے چہروں کے
چمکتی آنکھوں کے
اور
زندگی کی توانایوں سے
بھرپور
کھلکھلاتے بچوں کے
کیا اس خوں آلود دنیا میں
جہاں آنکھیں
جیل بن چکی ہیں
اور
انسانی چہرے
دیواروں پر لکھی
بہودہ تحریروں میں
ڈھل چکے ہیں
پرامن دنیا کے خواب
دیکھے جا سکتے ہیں
کون ہے جس نے
زندگی کے شیریں پانیوں کے
چشموں کو
اس طرح مسموم کیا ہے
کہ اب عورتیں
قاتلوں کو جنم دیتی ہیں
یا مقتولوں کو
قاتل بھی ایسے
جو محض شوق قتل میں
قتال کرتے ہیں
اور مقتول بھی ایسے
جو بے خبری میں
مقتل گاہوں کی طرف
بڑھے چلے جاتے ہیں
اس تیرگئی شب میں
کسی بھی افق پر
کوئی آفتاب تو کیا
کہیں کوئی ستارہ بھی نہیں
میں اب بھی
خواب دیکھ رہا ہوں
ایک پرامن دنیا کے
ایک ایسی دنیا کے
جس میں
ہرپیدا ہونے والے بچے کی
صداے اولیں
نغمہ امن بنے
اس تیرگئی شب میں
گل مہتاب بنے
چمکتا آفتا ب بنے
میں اب بھی
خواب دیکھ رہا ہوں
ایک پرامن دنیا کے
برکلے، کیلیفورنیا
14 مارچ 2010
|