|
|
|
کیا عجب ہے
کے اشرف
کیا عجب ہے
یہ بلکتے یہ تڑپتے عوام
کل اٹھیں
اپنے حقوق کو منوانے کے
لیے
اس نظام جبرکو
ہستی سے مٹانے کے لیے
کیا عجب ہے
کہ بدل جاے یہاں
اس شب و روزکا منظر
وہ جنہیں
ظلم سے فرصت نہیں
وہ جنہیں
سماعت فریاد کی عادت نہیں
کیا عجب ہے
کل اس کشورظلم و ستم میں
یہی ظالم ہوں فریاد کناں
نہ کوئی ان کی فریاد سنے
اور نہ کرے کوئی
ان کی داد رسی
کیا عجب ہے کل یہاں
بپھرے ہوے عوام کا ریلہ
آے
اور پھر یہاں
وہی ہو جو کہ ہمیشہ
تاریخ میں ہوتا آیا ہے
جسے دنیا نے
انقلاب کا نام دیا ہے
8 اگست 2009
|