|
|
|
سفرشہرعشق
کے اشرف
ہمیں درپیش ہے سفر
شہرعشق کا
ایک دل شکستہ
اور دو خونبار آنکھیں
ہماری راہنما ہیں
دوست کا غم
ہمارا کل اثاثہ ہے
اور لہولہان جسم
ہماری تنہا سواری ہے
کون جانے
جب ہم حستہ حال
شکستہ دل
شہر عشق پہنچیں گے
درخانہ محبوب
ہمارے لیے وا ہو گا یا نہیں
اے اہلیان شہر عشق
اپنے بچوں سے کہو
اپنے سنگ تیار رکھیں
اگر ہمارے لیے
در خانہ محبوب وا نہ ہو
تووہ پتھروں کی بارش سے
ہمارا استقبال کریں
شہر عشق میں
پتھروں کی بارش سے
بننے والا مزار
آماج گاہ ہوگا
دنیا بھر کے عشاق کی
جہاں ہرسال
وہ روز عشاق منانے آیں گے
ہمیں امید ہے
اس دن در خانہ محبوب
ضرور وا ہوگا
اور گلاب کا ایک پھول
اور
دو غمزدہ آنکھوں سے
گرنے والے آنسو
مزار کے پتھروں پر
گریں گے
اس دن ہر عاشق کی
عشق میں کامیابی کی دعا
قبول کی جاے گی
تب پیش کرے گا
ہر محبوب
اپنے عاشق کو
گلاب کا ایک پھول
چند نرم وگرم بوسے
اور
ابدی آغوش
برکلے، کیلیفورنیا
8 جنوری 2010
|