|
|
|
یہ
گلتا سڑتا نظام
کے اشرف
وزیر مزھبی امور پر قاتلانہ حملے کی خبر سن کر
یہ گلتا سڑتا نظام
کتنا خون بہاے گا ؟
موت اپنی مرتا نظام
یہ میر وزیر سفیر
یہ ملاں قاضی پیر
سب بے کماں تیر
مفلوک الحال عوام
یہ گلتا سڑتا نظام
نہ آٹا ہے نہ روٹی
نہ بجلی ہے نہ پانی
سب کی ایک کہانی
آپ ہتیا کرتے عوام
یہ گلتا سڑتا نظام
یہ لمبی لمبی کاریں
بھوکوں کی قطاریں
ننگوں کی یلغاریں
یہ حکمراں یہ عوام
یہ گلتا سڑتا نظام
کتنا خون بہاے گا؟
موت اپنی مرتا نظام
|