|
|
|
آ اے ابرکرم
آ
کے اشرف
آ اے ابر کرم آ
اور دھو اس کو
ہو رہا ہے صحن وطن
خون انساں سے لالہ زار
شکوہ بیداد اغیار ہو
کیوں ہم کو
ابناے وطن ہیں
بدتر از اغیار
جسد لیلاے وطن پر
انہوں نے لگاے ہیں
زخم ایسے
دھوسکیں نہ انہیں شاید
باران صد ہزار
کون ہیں یہ؟
کہاں سے آۓ ہیں؟
جولگاتے ہیں چرکے
اس وطن کو بار بار
کرے گا کون
اس وطن کی چارہ گری؟
ہیں چارہ گران وطن
خود ذہنی بیمار
آ اے ابرکرم آ
اور دھو اس کو
ہو رہا ہے صحن وطن
خون انساں سے لالہ زار
برکلے، کیلیفورنیا
11 دسمبر 2009
|