|
|
|
بارش کا
پہلا قطرہ
کے اشرف
میں اکیلا ہوں
ميں چھوٹا ہوں
لیکن
میں بارش کا پہلا
قطرہ ہوں
میں بادلوں کا بیٹا ہوں
سمندروں کا
پوتا ہوں
میں اکیلا ہوں
میں چھوٹا ہوں
لیکن
میں بارش کا پہلا
قطرہ ہوں
میں نے دھرتی
کے چٹختے چھرے کی
خراشیں دیکھی ہیں
میں نے دھرتی
کے سوکھے ہونٹوں سے
اس کی دل شگاف
آواز سنی ہے
اس لیے
آسمانوں سے
اترا ہوں
ميں بارش کا پہلا
قطرہ ہوں
میں اکیلا ہوں
میں چھوٹا ہوں
لیکن میرے لاکھوں بھائی
بادلوں کے بیٹے
سمندروں کے پوتے
امڈے چلے آتے ہیں
اس سوکھی دھرتی کو
برگ وگل کا
نیا پیراہن پہنانے
تازہ سبزے کی
نئی چادر اوڑھانے
میں اکیلا ہوں
میں چھوٹا ہوں
لیکن
میں بارش کا پہلا
قطرہ ہوں
برکلے، کیلیفورنیا
13 نومبر2009
|