|
|
|
نغمہ فردا
کے اشرف
اگر جھانک سکو تو
لمحئہ موجود کی تہہ میں
جھانکو
ایک نئی دنیا کے
منظر دیکھو
وہ دنیا جو ابھی
آفرینش کے مراحل سے
نہيں گزری
کوئی ایسا نغمہ سنو
جس کی موسیقی کے سر
ابھی چشمئہ ابدی
کی تہہ میں خوابیدہ
کسی دست ہنرکے
مضراب کے
منتظر
آنے والے زمانوں کی
راہ دیکھتے ہیں
ہو سکے تو
اس عہد پر آشوب کو
ان نغموں کی
خبر کرو
شاید
ان نغموں کی
صداے ابدی
ان کی شکستہ امیدوں میں
نئے رنگ بھرے
انہیں پھر
جینے کا حوصلہ دے
برکلے، کیلیفورنیا
2 نومبر2009
|