|
|
|
اے ہواو لکھ
سکو تو لکھو
کے اشرف
اے ہواو
لکھ سکو تو لکھو
لوح سطح آب پر
کوئی نام
شیریں سا نام
پیارا سا نام
اے ہواو
لکھ سکو تو لکھو
کوئی نام
جس کو پڑھ کر
دنیا بھر کی ظلمتوں
کے گریباں
چاک ہوں
اے ہواو
لکھ سکو تو لکھو
کوئی نام
جس کی خوشبو
پوری دنیا کو
اس طرح معطر کرے
زندگی کے
سارے مظہر
جا گ اٹھیں
دنیا بھر میں
جشن آزادی کا
ہو سماں
اے ہواو
لکھ سکوتو لکھو
لوح سطح آب پر
کوئی نام
شیریں سا نام
پیارا سا نام
21 اکتوبر 2009
برکلے، کیلیفورنیا |